30 مارچ 2012 - 19:30

اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمنٹ کی پریسائڈینگ کمیٹی کے ترجمان نے کہا ہے کہ شام کے مسئلے کے تعلق سے اسلامی جمہوریہ ایران کا موقف اعتدال اور حقیقت پسندی پر مبنی ہے۔

ابنا: پارلیمنٹ نیوز کے مطابق محسن کوہ کن نے کہاکہ اسلامی جمہوریہ ایران شام میں ہتھیار اسمگل کرنے اور فوجی مداخلت کا سخت مخالف ہے بلکہ شام کے عوام کی اکثریت کے مد نظر اصلاحات کی حمایت کرتا ہے۔

محسن کوہ کن نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران عالمی سطح پر ایک بااثر طاقت کی حیثیت سے عالمی حالات پر ناقابل انکار اثرات کا حامل ہے اور شام کی حکومت کی حمایت کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی نظر میں شام کی حکومت بہت سی عرب حکومتوں سے بنیادی فرق رکھتی ہے اور اسی وجہ سے ایران دیگر عرب حکومتوں کے مقابل شام کو الگ نگاہ سے دیکھتا ہے۔

پارلیمنٹ کی پریسائڈینگ کمیٹی کے ترجمان نے کہ کہ بہت سے عرب ممالک صہيونی رياست سے تعلقات رکھتے ہیں اور اگر ظاہری طور پر ملت فلسطین کے دفاع کی بات کرتے بھی ہیں تو عملی طور پر وہ نہ ملت فلسطین کا دفاع کرتے ہیں اور نہ ہی صہيونی رياست کے خلاف کوئي قدم اٹھاتے ہیں اور نہ ملت فلسطین کی حریت پسند تحریک کی حمایت کرتےہیں۔

محسن کوہ کن نے کہا کہ  صہيونی رياست کے خلاف مزاحمتی محاذ کی بنا پر شام کی اسٹراٹیجیک پوزیشن ہے اور فلسطینی کاز حضرت امام خمینی قدس سرہ اور اسلامی نظام کے اھداف و مقاصد نیز ہماری قوم کے اعتقادی مسائل میں شمار ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صہيونی رياست کے خلاف مزاحمت کے تعلق سے شام کے حساس کردار کی بنا پر بے شک اسلامی جمہوریہ ایران بشار اسد کی حکومت کی حمایت کرتا ہے اور بشار اسد کو شام کے عوام کی حمایت بھی حاصل ہے۔  .....

/169